بیلگاوی 30نومبر (ایس اونیوز ) وزیراعلیٰ سدارامیا نے بیلگاوی کے مستار مانڈی گاوں میں گنے کی فصل کاٹنے کی عصری مشین کا آغاز کیا اور کرشی ینترا دھارے کیندر کو 12یونٹس حوالے کئے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ یہ مشینیں مزدوروں کی بڑھتی قلت کا جواب ہے ۔حکومت نے کرشی ینترادھارے کیندروں میں ایسی مشینوں کی دستیابی کا فیصلہ کیا ہے ،جہاں کسان گنے کی کٹائی کے لئے ان مشینوں کو کرایہ پر حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کے لئے مالی استحکام کے لئے زرعی پیداوار میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پیداوار میں بہتری کے ذریعہ زراعت کو منافع بخش وینچر بنایا جاسکتا ہے ۔ ان پٹ سطح سے کٹائی کے عمل تک بہترین سانٹفک ' عصری اور ٹکنالوجی کی اختراعات کے علاوہ حکومت کی بیشتر موافق کسان اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ کسانوں کو ڈرپ اریگیشن سسٹمس نصب کرنے آگے آنا چاہئے، تاکہ پانی کو بچایا جاسکے اور فصل بہتر ہوسکے ۔ حکومت ڈرپ اریگیشن سسٹمس کی تنصیب کے ذریعہ گنے کی کاشت کرنے والوں کو 90فیصد سبسیڈی فراہم کررہی ہے ۔وزیرزراعت کرشنا بائیرے گوڑا نے کہا کہ حکومت گنے کی کٹائی کی مشینوں کی خریدی کے لئے 40فیصد سبسیڈی (تقریباً 38لاکھ روپے ) فراہم کررہی ہے ۔ایسی ہر مشین کی قیمت 1.38کروڑ روپے ہے ۔انسانی طور پر فصل کی کٹائی 350روپے یا 375روپے فی ٹن کے حساب سے کی جاتی ہے، جبکہ حکومت ان عصری مشینوں کے ذریعہ اسے 300روپے تک کرنا چاہتی ہے ۔ساتھ ہی معمول کے کسان ایک دن میں ایک ایکڑ گنے کے کھیتوں کی کٹائی کرتے ہیں جو یہ عصری مشینیں صرف 4گھنٹے میں کرسکتی ہیں۔